28 اکتوبر 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان سید حسین نقوی حسینی نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ سمیت ایک ایرانی پارلیمانی وفد عنقریب میانمار کا دورہ کرے گا۔

 ابنا: سید حسین نقوی حسینی نے میانمار میں مسلمانوں کا قتل عام جاری رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میانمار میں المیہ جاری رہنا افسوسناک ہے لیکن زیادہ افسوس ان بین الاقوامی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی پر ہے جو میانمار میں ہونے والے مظالم پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کر ر ہی ہیں۔انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے انسانیت کو اپنی مرضی کے مطابق تعبیر کئے جانے اوراس سلسلے میں  ان کے دہرے رویہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  کہا کہ سوال یہ ہے کہ آئے دن اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف انسانی حقوق کی رپورٹیں اور قراردادیں جاری کرنے والے اداروں کو میانمار میں ہونے والے مظالم کیوں نظر نہیں آتے اور وہ کیوں اس سلسلے میں اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کر ر ہے ہیں؟سید حسین نقوی حسینی نے کہا کہ ایران کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن میں میانمار کے مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئي ہے۔واضح رہے کہ میانمار میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی تازہ لہر میں ایک سو بارہ مسلمان جاں بحق اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران میانمار کے مغربی صوبے راخین میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں بائیس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ انتہا پسند بدھسٹوں نے مسلمانوں کے چار ہزار چھ سو سے زیادہ گھروں کو آگ لگا دی ہے۔......./169